Saturday , November 27 2021
Home / اسلامک / عورت کی عید کی نماز پڑھنے کا حکم اور طریقہ ۔

عورت کی عید کی نماز پڑھنے کا حکم اور طریقہ ۔

عورتوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ فرض نماز ہو یا عید کی نماز ہو یا تراویح کی جماعت ہو، حضور ﷺ کے زمانہ میں عورتیں مسجد میں نماز کے لیے آتی تھیں، وہ بہترین زمانہ تھا، آپﷺ بنفسِ نفیس موجود تھے، اور وحی کا نزول ہوتا تھا، اسلامی احکام نازل ہورہے تھے اور عورتوں کے لیے بھی علمِ دین اور شریعت کے احکامات سیکھنا ضروری تھا، مزید یہ کہ آپ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب بھی عام مساجد سے کئی گنا زیادہ تھا

،لیکن اس وقت بھی انہیں یہی حکم تھا کہ عمدہ لباس اور زیورات پہن کر نہ آئیں اورخوشبو لگا کر نہ آئیں، نماز ختم ہونے کے فوراً بعد مردوں سے پہلے واپس چلی جائیں، اور ان پابندیوں کے ساتھ اجازت کے بعد بھی آپ ﷺنے ترغیب یہی دی کہ عورتوں کا گھر میں اور پھر گھر میں بھی اندر والے حصے میں نماز پڑھنا مسجد نبوی میں نماز پڑھنےسے افضل ہے۔

حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھی میں کمرے کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کی نماز گھر کے احاطے کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے کی نماز محلے کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔

چناں چہ حضرت امّ حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے فرمائش کرکے اپنے کمرے (کوٹھے) کے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا رہتا تھا مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ) بنوائی، وہیں نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا اور اپنے خدا کے حضور حاضر ہوئیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تک یہ احادیث اور فرامینِ رسول اللہ ﷺ پہنچے تھے، اور وہ دین کا مزاج بھی سمجھتے تھے، چناں چہ جب انہوں نے زمانے کا فساد دیکھا (جب کہ وہ زمانہ حضور ﷺ کے زمانے سے متصل تھا) تو مساجد میں خواتین کے آنے کی ممانعت فرمادی، خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خواتین کو مساجد میں آنے سے منع فرمایا۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورتوں کی جو حالت آج ہو گئی ہے

وہ حالت اگر حضور ﷺ کے زمانہ میں ہوئی ہوتی تو آپ ﷺ عورتوں کو مسجد آنے سے منع فرما دیتے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ حضور ﷺ کے وصال کو زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج خوب سمجھتی تھیں ؛ اسی لیے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کی ایسی حالت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو آنے سے منع فرمادیتے۔ ہٰذا موجودہ پر فتن دور جس میں فتنہ ، فساد ، اور بے حیائی عام ہے، اور مرد وزن میں دین بے زاری کا عنصر غالب ہے، عورتوں میں فیشن ، اور بن سنور کر باہر نکلنے کا رواج ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

About admin

Check Also

6 چیزوں کا سستا ناشتہ ہر بیماری ہرکمزوری کا علاج جسم میں طاقت وتندرستی کامکمل خزانہ۔

تینوں وقت کے کھانے میں ہمارے لیے سب سے اہمیت کا حامل ناشتہ ہے متوازن …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *