Saturday , November 27 2021
Home / اسلامک / میں نماز پڑھنا شروع کرتی تھی تو چھوٹ جاتی تھی میں بہت پریشان تھی

میں نماز پڑھنا شروع کرتی تھی تو چھوٹ جاتی تھی میں بہت پریشان تھی

میں نماز پڑھنا شروع کر تی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے کبھی بہت اچھا لگتا ہے کبھی نماز سکون دیتی ہے مگر تھوڑے ہی ٹائم بعد بیزاریت ہو جاتی ہے نماز بوجھ لگتی ہے مجھے اپنا بھاری وجود نماز کے لیے اٹھا نا مشکل لگتا ہے وہ بہت تھکے ہوئے لہجے میں کہہ رہی تھی مجھے لگ رہا تھا بات کرتے کرتے اس کا سانس پھول رہا تھا۔ وہ مجھے ظاہری نہیں باطنی طور پر تھکی ہوئی محسوس ہوئی نظر کا پردہ کرتی ہو؟ میں نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اس بات کی شاید توقع نہیں تھی اسے نظر کا پردہ میں تو نقاب کرتی ہوں خود میں سمجھی نہیں نظر کے پردے کا کیا تعلق نماز سے الفاظ بے ترتیب تھے میں مسکرا دی تعلق تو ہے بہت گہرا ہے۔

بری نظر شیطان کے زہر یلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو انسان کے دل میں اتر جا تا ہے پردہ کر نا تو بہت آسان ہے مگر نظر کا پردہ کچھ مشکل ہے جب نگاہ پاک نہیں رہتی نا تو عبادتوں سے لذت جاتی رہتی ہے جب نگاہ پاک نہیں رہتی تو سوچ بھی پاک نہیں رہتی۔ اور جب سوچ خراب تو نیت خراب اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے تمہیں پتا ہے انسان جو دیکھتا ہے س چتا ے جو سنتا ہے وہ اس کے دل پر اثر رکھتا ہے ہم کیا دیکھتے ہیں کیا سنتے ہیں کیا بات کرتے ہیں کبھی سو چا ہے تم خود تو پردہ کرتی ہو تو کیا ہر وہ نا محرم جو تمہاری نظر کو اچھا لگے پہلی نظر کے بعد تسکین نفس کے لیے کتنی بار دیکھتی ہو کہ وہ کس قدر خوبصورت ہے۔

فیس بک پر کوئی غیر منا سب تصویر کوئی ویڈ یو کوئی بات جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا تنہائی میں مگر صرف اللہ ! تو کیا ایک دفعہ اس پر رکتی ہ؟ کبھی کوئی فلم کوئی گا نا جس میں نا محرم تو خیر چھوڑو ہماری اپنی صنف کا بھی پردہ پورا نہیں ہوتا بے خیالی میں دیکھ لیتی ہو اور پھر نا محرم ہمارے اردگرد کے مرد تو نہیں ہیں نا یہ جیو ٹیلی ویژن پر آنے والے ایکٹرز ، ماڈلز، جن کی غائبا نہ محبت میں ہم گرفتار ہوتے ہیں انہیں غور سے دیکھتے ہیں ان کی باڈی ڈریسنگ اور لکس کی تعریف یہ سب نظر کا پردہ ختم ہونے کے بعد ہی ہو پا تا ہے۔

تو تم سوچو میں نہیں کہہ رہی اس کا جواب مجھے دو اپنا تجزیہ کرو اس کا جواب اپنے دل کو دو اگر اسکا جواب ہاں میں آ ئے تو سمجھ جاؤ یہ نظر کی خیا نت تم سے تمہاری عبادت کی لذت چین رہی ہے۔ دل کو سیاہ کر رہی ہے ز ن ا صرف ایک طرح کا تو نہیں ہوتا اگر ہاتھ سے کچھ غلط چھوا تو وہ ہاتھ کا ز ن ا ۔ زبان سے فحش بات کہی تو زبان کا ز ن ا ہے آنکھوں سے کچھ حرام دیکھا تو وہ آ نکھوں کا ز ن ا ہے نظر کی بے پردگی دل میں ایسا سوراخ کر دیتی ہے کہ جس سے ہمارے دل کو نور بہتا جا تا ہے اور پھر جو لوگ نظر کا پردہ نہیں کرتے ان کی نماز ان پر بھاری ہو جاتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

About admin

Check Also

”حضرت سلیمانؑ کا قصہ“

ایک دن حضرت سلیمان ع س دربار میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں اچانک ملک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *