Sunday , November 28 2021
Home / اہم خبریں / جب خدا کسی کو اپنے لئے خالص کرتا یے

جب خدا کسی کو اپنے لئے خالص کرتا یے

نیک اعمال ایک مسلمان کارأس المال ہیں‘ ان ہی کیلئے وہ پیدا ہوا‘ ان ہی کا حساب ہوگا اور ان ہی پر اس کی دنیا کی پاکیزہ زندگی اور آخرت میں جنت کی زندگی کا دارومدار ہے ۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے نیک اعمال کی طرف رغبت دلائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیک اعمال قبول کرنے اور ان پر دنیا و آخرت میں بہترین اجر و ثواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَ۔ٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا ﴿١٢٤﴾ سورة النساء’’ اور جو بھی نیک کام کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان بھی ہو- ان سب کو جنّت میں داخل کیا جائے گا

اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا ‘‘۔(١٢٤) سورة النساءلہذا مومن بندے کو نیک اعمال کرنے کا بے حد حریص ہونا چاہئے اور ان پر اللہ سے اجر و ثواب کا امید رکھنا چاہئے اور شروط‘ آداب اور حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے نیک عمل صحیح طریقے سے مکمل کرنا چاہئے۔جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ اللہ تعالٰی کو یہ بات پسند ہے کہ جب عامل عمل کرے تو مضبوط اور مکمل کرے‘‘۔( صحیح الجمامع)ہر مسلمان نیک اعمال کرنا چاہتا ہے لیکن ہر کسی کو اس کی توفیق نہیں ہوتی کیونکہ توفیق تو اللہ تعالٰی کی طرف سے ملتی ہے۔

نیک عمل کی توفیق انسان کی دل کی تڑپ‘ دعائیں اور بعض شرائط پوری کرنے پر ملتی ہے۔ پھر نیک عمل انجام دینے کے بعد اس کی قبولیت اور حفاظت کے بھی بعض شروط ہیں۔ ان سب کا جاننا ایک مسلمان کیلئے بے حد ضروری ہے۔اگرچہ مضمون کافی طویل ہے لیکن ذیل میں پہلے ان شروط کی فہرست دی گئی ہے اور پھر اختصار کے ساتھ انہیں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اللہ تعالٰی ہماری اس عمل کو قبول فرمائے۔ آمین۔ایمان باللہ نیک اعمال کی توفیق‘ اسکی قبولیت اور اس پر اجر ملنے کی پہلی شرب ہے۔ایمان کے بغیر کوئی بھی عمل قبول نہیں ہو سکتا۔ فرمانِ الٰہی ہے:مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٩٧﴾ سورة النحل’’ جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ) ایمان والا (ہو تو ہم اسے (دنیا) میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔

اور (آخرت میں) ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے‘‘۔وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَ۔ٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا ﴿١٢٤﴾ سورة النساء’’ اور جو بھی نیک کام کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان بھی ہو- ان سب کو جنّت میں داخل کیا جائے گا اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا ‘‘۔وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَ۔ٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا ﴿١٩﴾ سورة الإسراء’’ اور جو آخرت کا طلب گار ہو اور اس کے لیے جیسی کوشش کرنی چاہئے ویسی کوشش بھی کرے اور وہ ایمان والا بھی ہو‘ تو ایسے لوگوں کی کوشش (اللہ کے ہاں ) مشکور ہو گی ‘‘۔اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالٰی نے عمل صالح کی قبولیت کو ایمان کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

.اعمالِ صالحہ کی شرط نمبر(2) ۔۔ اخلاص:اخلاص یہ ہے کہ نیک عمل خالصتاً اللہ کیلئے ہو اور اس کا مقصود دنیا کا حصول‘ ریاکاری یا غیر اللہ کی خوشنودی نہ ہو۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا ﴿١١٠﴾ سورة الكهف’’ پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘۔اسی طرح فرمایا:وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّ۔هَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ﴿٥﴾ سورة البينة’’اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ الله کی عبادت کریں دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئےبالکل یکسُو ہو کراورنماز قائم کریں اور زکواة دیں اور یہی محکم دین ہے ‘‘۔اور فرمایا:هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَ۔ٰهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۗ الْحَمْدُ لِلَّ۔هِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٦٥﴾ سورة غافر’’وه زنده ہے۔

جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔اور فرمایا:فَادْعُوا اللَّ۔هَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ﴿١٤﴾ سورة غافر’’پس تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر تے ہوئےاگرچہ کافر برا مانیں ‘‘۔اور فرمایا:فَاعْبُدِ اللَّ۔هَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ (٢)أَلَا لِلَّ۔هِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ ۔۔۔۔(۳)سورة الزمر’’پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے۔

۔اعمالِ صالحہ کی شرط نمبر(3) ۔۔ محبت الٰہی اور اعمالِ صالحہ کی شرط نمبر(4) ۔۔خشیتِ الٰہی:یہ دونوں شرائط بھی ضروری ہے کیونکہ ہر وہ عمل جو خشیتِ الٰہی اور محبتِ الٰہی پر مبنی نہ ہو، وہ عبادت نہیں ہے۔ اللہ کو ’غایت درجے کی محبت جو عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہو‘ مطلوب ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّ۔هِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّ۔هِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّ۔هِ ۗ۔۔۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا مجھے بتلائیے کہ’’ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں جبکہ میں صبر اور اجر کی امید کروں اور میدان جہاد میں دشمن کی طرف رُخ کرکے جوانمردی سے جان دوں ‘ نہ کہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے تو کیا میری خطائیں معاف کر دی جائیں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! سوائے قرض کے‘‘ ۔۔۔( رواہ احمد)لہذا یہ بات ثابت ہوئی کہ اعمال صالحہ اور وہ آزمائش جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔

ان کیلئے شرط ہے کہ اجر کی امید رکھی جائے۔ مصیبت پر اجر کی امید نہ رکھنا گویا دوسری مصیبت ہے کہ یہ اجر سے محرومی ہے‘ کیونکہ کسی بھی عمل کے صالح ہونے کیلئے احتساب شرط ہے بصورت دیگر وہ عمل عبادت کے بجائے عادت شمار ہوگا۔لہذا جو لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ ہم جنت کیلئے عمل نہیں کرتے‘ وہ اپنی نیک عمل میں احتساب کی شرط اور سنت کو پوری نہیں کرتے جو کہ بہت بڑی گمراہی ہے۔احتساب کی مثال یوں ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی مطلوب کام پر ایک انتہائی قیمتی انعام مقرر کرتا ہے اب جو شخص اس انعام میں رغبت رکھے وہ اس کا محبوب ہوگا اور جو انعام سے بے توجہی کرے وہ اس انعام مقرر کرنے والے کو ناپسند ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

About admin

Check Also

ایک بدونے نبی کریم ﷺسے پُوچھا کہ حشر میں ہماراحساب کون لے گا ؟

ایک بدونے نبی کریم ؐسے پُوچھا کہ ، ”حشر میں ہماراحساب کون لے گا ؟“آپ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *